تجھے دیکھتے ہی سوچوں کے
جزیروں میں ٹوٹے سفینوں کی
کھوج میں نکل پڑا
کہ کسی پرانے طوفان کی زد میں
آئی کشتیاں بیچ سمندر میں ٹوٹی تھی
یا ساحل پہ اپنا وجود بکھرتے دیکھا
اشکوں کی لہروں کی آڑ میں
بل کھاتی سانسوں کے سفر کو
کھٹن بنایا
ممکن تھا کہ نکلتے سفر پہ
منزل کا دوام باقی نہ رہے
جس چاہ سے لگن سے
پریم سے پریت سے
لنگر اٹھائے گئے تھے سفینے کے
امید نو امڈ آئی تھی
کہ منزل کو پا لیں گے ہم
مگر بیچ راہ میں ابھرتے ہوئے
طوفان سے منزل کی چاہ میں
نئی راہ حائل ہوئی
جس نے وحشت کا ساماں پیدا کیا
اور بھٹکتے ہوئے رستوں پہ گامزن کردیا
عین ممکن تھا کہ طوفان کی آڑ میں
ابھرتی ہوئی بل کھاتی ہوئی لہروں سے
نکل سکیں
مگر چاہتوں کی ڈور کے سارے
دھاگے کچے نکلے
ہم نے سیدھا رستہ سوچا تھا
اس میں کئی اور رستے نکلے
بس بھٹکتے ہوئے ہوئے
رستوں پہ بلکتی دھڑکنوں کو تھکا دیا
اتنا چلا کہ چاہتوں کی منزل کو سلادیا
میں نے چاہا تھا
میں اپنے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو
چن سکوں
میں نے چننا بھی چاہا
میں نے جڑنا بھی چاہا
میں جانتا بھی تھا
جو ٹوٹ گیا ہوں
جڑنے سے بھی دراڑیں رہ جائیں گے
پھر بھی چاہا کہ جوڑ سکوں
ہنر کو آزمایا
بکھرے ٹکڑوں کو اٹھایا
مگر یہ بھول چکا تھا
کس کو کہاں رکھنا ہے
بھول چکا تھا
کس ٹکڑے کو کہاں جڑنا ہے
بھلکڑ دست ہنر کا مارا تھا
جہاں دل تھا وہاں آنکھیں رکھ دی
جہاں آنکھیں تھی وہاں دل رکھا
دل میں دھڑکنیں رکھ دی
جوڑ توڑ کے باہر نکلا تو
حیراں تھا کہ مجھ میں اک خلا باقی تھا
بحر قہر کی لہر میں طوفان باقی تھا
میں نے سنا تھا
ٹوٹ جانے کے بعد
بکھرتا ضرور ہے مگر
نکھرتا بھی ضرور ہے
طوفاں کی زد میں آنیوالے گلاب کی پتیاں بکھر جائیں
تو ان پتیوں کی خوشبو سے فضا معطر ہوجاتی ہے
مگر میں یہ بھول گیا تھا
طوفان کی زد میں آنے سے
بکھری ہوئی پتیاں آدھی ملتی ہی نہیں !
بخدا ہم نے جوڑنا چاہا
ہم نے ہنر آزمائی کی
مگر کیا کریں
طوفان کی زد میں ایسے آئے
کہ دل تو ملا
بلکتی دھڑکنیں تو ملی
مگر جذبات کہیں گم ہوگئے
آنکھیں تو ملی
مگر نور آنکھوں کا کھو بیٹھے
تب سمجھ میں آیا کہ
اگر تم کہیں بکھر جاؤ تو
خود کو جوڑ لو عین ممکن ہے
تم حسیں بن جاؤ
عین ممکن ہے پہلے سے زیادہ دلنشیں بن جاؤ
مگر یہ بھی عین ممکن ہے
تم خود کو جوڑنا چاہو
تم واپس لوٹنا چاہو
مگر تمہارے آدھے ٹکڑے نہ ملیں
تم موت سے زندہ ہونے کی طرف لوٹو
مگر عین ممکن ہے زندگی نہ رہے
کیونکہ ٹوٹنا الگ بات ہے
ٹوٹ کے بکھر جانا الگ بات ہے
زندگی اک الگ چیز ہے
زندہ رہنا الگ بات ہے

ویر کیف