اس نے چاہا تھا کہ وہ چاہ کے چاہے گا کسی کو
مگر اس روز کسی اور نے چاہا تھا اسی کو
اس نے سوچا تھا مقدر میں وہ پائے گا اسی کو
مگر پھر پا کےکھونے نے رلایا تھا اسی کو
اس نے لکھا تھا کہ وہ چھوڑ کے جائے گا اسی کو
مگر اس چھوڑ کے جانے نے ستایا تھا اسی کو
اس نے آنجام سے بے خوف پرکھنا تھا اسی کو
مگر ارمان نے افسوس ڈرایا تھا اسی کو
اس نے وعدے جو کیے تھے وہ نبھانے تھے اسی کو
مگر اس خواب کے کھل جانے نے توڑا تھا اسی کو
اس نے نیت ؔ یہی کی تھی کہ وہ پائے گا اسی کو
اب نہ چاہے گا کسی کو،اب نہ چاہے گا کسی کو