ٹوٹے ہوئے دلوں کو اگر جوڑ نہ سکو
سنبھلے ہوئے دلوں کو یوں توڑا بھی نہ کرو
کر جاتی ہوں جو ضبط میں با تیں یونہی اکثر
کستے ہویے لوگوں کو ہوں چھوڑا بھی نہ کرو
الفاظ جو تھم جائیں کسی درد کی خاطر
اس درد کو دلوں سے یوں جوڑا بھی نہ کرو
آئے ہو جہاں سے وہاں واپس بھی ہے جانا
یوں آتے جاتے لوگوں پہ رویا بھی نہ کرو
اب عید آئی ہے تو بہاریں بھی آئیں گی
اب بے بسی کے بول تم بولا بھی نہ کرو
ؔدینا یوں تسلی بہت آسان ہےنیت
کھوئے ہوں جو اپنے تو بھروسہ بھی نہ کرو