internetPoem.com Login

شیشہ گر

Veer Kaifi


تجھے دیکھتے ہی سوچوں کے
جزیروں میں ٹوٹے سفینوں کی
کھوج میں نکل پڑا
کہ کسی پرانے طوفان کی زد میں
آئی کشتیاں بیچ سمندر میں ٹوٹی تھی
یا ساحل پہ اپنا وجود بکھرتے دیکھا
اشکوں کی لہروں کی آڑ میں
بل کھاتی سانسوں کے سفر کو
کھٹن بنایا
ممکن تھا کہ نکلتے سفر پہ
منزل کا دوام باقی نہ رہے
جس چاہ سے لگن سے
پریم سے پریت سے
لنگر اٹھائے گئے تھے سفینے کے
امید نو امڈ آئی تھی
کہ منزل کو پا لیں گے ہم
مگر بیچ راہ میں ابھرتے ہوئے
طوفان سے منزل کی چاہ میں
نئی راہ حائل ہوئی
جس نے وحشت کا ساماں پیدا کیا
اور بھٹکتے ہوئے رستوں پہ گامزن کردیا
عین ممکن تھا کہ طوفان کی آڑ میں
ابھرتی ہوئی بل کھاتی ہوئی لہروں سے
نکل سکیں
مگر چاہتوں کی ڈور کے سارے
دھاگے کچے نکلے
ہم نے سیدھا رستہ سوچا تھا
اس میں کئی اور رستے نکلے
بس بھٹکتے ہوئے ہوئے
رستوں پہ بلکتی دھڑکنوں کو تھکا دیا
اتنا چلا کہ چاہتوں کی منزل کو سلادیا
میں نے چاہا تھا
میں اپنے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو
چن سکوں
میں نے چننا بھی چاہا
میں نے جڑنا بھی چاہا
میں جانتا بھی تھا
جو ٹوٹ گیا ہوں
جڑنے سے بھی دراڑیں رہ جائیں گے
پھر بھی چاہا کہ جوڑ سکوں
ہنر کو آزمایا
بکھرے ٹکڑوں کو اٹھایا
مگر یہ بھول چکا تھا
کس کو کہاں رکھنا ہے
بھول چکا تھا
کس ٹکڑے کو کہاں جڑنا ہے
بھلکڑ دست ہنر کا مارا تھا
جہاں دل تھا وہاں آنکھیں رکھ دی
جہاں آنکھیں تھی وہاں دل رکھا
دل میں دھڑکنیں رکھ دی
جوڑ توڑ کے باہر نکلا تو
حیراں تھا کہ مجھ میں اک خلا باقی تھا
بحر قہر کی لہر میں طوفان باقی تھا
میں نے سنا تھا
ٹوٹ جانے کے بعد
بکھرتا ضرور ہے مگر
نکھرتا بھی ضرور ہے
طوفاں کی زد میں آنیوالے گلاب کی پتیاں بکھر جائیں
تو ان پتیوں کی خوشبو سے فضا معطر ہوجاتی ہے
مگر میں یہ بھول گیا تھا
طوفان کی زد میں آنے سے
بکھری ہوئی پتیاں آدھی ملتی ہی نہیں !
بخدا ہم نے جوڑنا چاہا
ہم نے ہنر آزمائی کی
مگر کیا کریں
طوفان کی زد میں ایسے آئے
کہ دل تو ملا
بلکتی دھڑکنیں تو ملی
مگر جذبات کہیں گم ہوگئے
آنکھیں تو ملی
مگر نور آنکھوں کا کھو بیٹھے
تب سمجھ میں آیا کہ
اگر تم کہیں بکھر جاؤ تو
خود کو جوڑ لو عین ممکن ہے
تم حسیں بن جاؤ
عین ممکن ہے پہلے سے زیادہ دلنشیں بن جاؤ
مگر یہ بھی عین ممکن ہے
تم خود کو جوڑنا چاہو
تم واپس لوٹنا چاہو
مگر تمہارے آدھے ٹکڑے نہ ملیں
تم موت سے زندہ ہونے کی طرف لوٹو
مگر عین ممکن ہے زندگی نہ رہے
کیونکہ ٹوٹنا الگ بات ہے
ٹوٹ کے بکھر جانا الگ بات ہے
زندگی اک الگ چیز ہے
زندہ رہنا الگ بات ہے

ویر کیف

(C) Veer Kaifi
07/18/2020


Best Poems of Veer Kaifi